دعاۓ نماز
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
اپنا تو گزارہ ہو ہی گیا کب اپنا گزارہ مانگتا ہوں
آنے والی نسلوں کے لیۓ بس ایک سہارہ مانگتا ہوں
کیا ہو گا ان کا مستقبل طوفان ہزاروں اٹھتے ہیں
بچے ڈوب نہ جایئں کہیں محفوظ کنارہ مانگتا ہوں
اب جب کہ نبؤت ختم ہوئ اور میرا خدا خاموش ہوا
آساں کر دے جو موت میری ایک ایسا اشارہ مانگتا ہوں
یہ ہاتھ سلامت ہیں ابتک یہ پاؤں ابھی بھی چلتے ہیں
یہ ذہن ابھی تک سوچتا ہے ہاں ایک نظارہ مانگتا ہوں
وہ ماں ہے میری بہن ہے میری یا میری پیاری بیٹی ہے
پردوں میں سدا جو ہوتا رہے میں ایسا اشارہ مانگتا ہوں
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş