ملاقات
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
وقت بہت ہی کڑوہ ہے تم میٹھے یہ دن رات کرو
ہونٹوں سے مٹھاس ٹپکنے دومیٹھی میٹھی بات کرو
موسم آج گلابی ہے دھوپ کی تیزی کھو گئ ہے
ہم چال پرانی چلتے ہیں تم اپنی پرانی گھات کرو
ھم اور تم گر مل جایئں وقت کو پیچھے لے آئیں گے
کب موت آ جاۓ چپکے سے جینے کوسوغات کرو
شام سہانی سامنے ہے رات بھی کوئ دور نہیں
شب کو سحرمیں کر دوں گا تم پہلے دن کو رات کرو
یہ موسم یوں ہی بدلتے ہیں یہ دیۓ تواب بھی جلتے ہیں
میں چاند کو روشن کر دوں گا تم تاروں کو بارات کرو
قدرت تو کل بھی جھپٹتی تھی قدرت تو آج بھی جھپٹے گی
بھول کے آنے والے کل کو تم گزرے کل کی بات کرو
آفتیں آتی رہتی ہیں جسے جانا ہے چلا جاۓ گا
چاند چھپا لو بادل میں تم آج آنے کی بات کرو
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş