وہ اجنبی
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
پرستش اسکی نہ کر پایاوہ صنم بھی نہیں
پگھل نہ پاۓ کبھی جو بتوں سے کم بھی نہیں
سڑک کی دوسری جانب وہ چلتا ھے میرے ساتھ
وہ ہم قدم ہے مگر میرا ھم قدم بھی نہیں
نہ میں نے راستہ بدلا نہ اس نے چھوڑی یہ راہ
اداس اداس سا دکھتا ہے آنکھیں نم بھی نہیں
میں اس کودیکھ تو سکتا ہوں چھو نہیں سکتا
خوشی تو کھ نہیں سکتا مگر یہ غم بھی نہیں
میں سوچتا ہوں ادھر جاکے پوچھوں کون ہو تم
خاموش رہنے کی کھائ کوئ قسم بھی نہیں
وہ دوست ہے تو گلے سے نہ کیوں لگا لوں اسے
وہ ہاتھ مجھ سے ملاۓ گا یہ بھرم بھی نہیں
وہ غیروں جیسا تو لگتا نہیں نہ جانے کیئوں
وہ میرے اپنوں سے بڑھکر نہیں تو کم بھی نہیں
وہ اجنبی جو سدا ساتھ ساتھ چلتا ہے
وہ دلشکن ہے مگر دلربا سے کم بھی نہیں
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş