ہاں ہم ہیں بڑے جھوٹے

A Akhtar Jawad
0 Altın Yaprak
پوچھو تو کبھی ہم سے ہم کس لیے آتے ہیں کچھ سیکھنے آتے ہیں کچھ سیکھ كے جاتے ہیں ایک تو کہ چھپا بیٹھا خاموش بھی رہتا ہے ایک ہم کہ تیرے قصے گڑھ گڑھ كے سناتے ہیں کس شوق سے سنتے ہیں یہ لوگ تیری باتیں ہم نثر میں کہتے ہیں یہ نظم بناتے ہیں کوئی پوچھتا ہے زلفیں کس رنگ کی ہیں تیری کوئی کہتا ہے وہ آنکھیں کس طرح ملاتے ہیں کوئی کہتا ہے پیشانی کیا لوح کی مانند ہے کوئی پوچھتا ہے بنسی وہ اب بھی بجاتے ہیں ہے کیسی زُباں تیری ہیں ہونٹ تیرے کیسے وہ گیت سنا دو نا جو گیت وہ گاتے ہیں گورا ہے یا کالا ہے کیا سب سے نرالا ہے ہم ہیں بڑے جھوٹے اور قسمیں بھی کھاتے ہیں اب کیسے کہیں سب سے اب تک نہ اسے دیکھا ہاں ہم ہیں بڑے جھوٹے بس جان چھڑاتے ہیں یہ عشق كے مارے ہیں جو بھی نہ کریں تھوڑا ہم ان ہی کے خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں.

Bu şiire çeviri ekle ·

Bu şiiri puanla

Henüz puan verilmemiş

Yıldıza dokunarak 1–10 arası puan ver

Yorumlar

Yorum yapmak için giriş yapmalısın.

Giriş yap

Bu şiire henüz yorum yapılmamış. İlk sen ol.

Sana daha iyi bir okuma deneyimi sunabilmek için sitemizde çerez kullanıyoruz. Kişisel verilerin KVKK ve GDPR kapsamında işlenir; hangi çerezlere izin verdiğini dilediğin zaman değiştirebilirsin.