ابا جی

A Akhtar Jawad
0 Altın Yaprak
جب تک تن پر وردی تھی شہزور سے دکھتے تھے ابا جی وردی اتری تو کچھ نہ رہے بے زور سے دکھتے تھے ابا جی گھر اتنا بڑا تو بنا ڈالا بوڑھے ہاتھوں سے سنبھلتا نہ تھا باقی نہ بچی وہ کر و فر کم زور سے دکھتے تھے ابا جی بنیادوں میں رشوت کی اینٹیں، کچھ سونے کی کچھ چاندی کی اولاد اتنی کہ گن نہ سکیں، کچھ بیگم کی کچھ باندی کی فرماں بردار فرنگی کے تھے جاگیریں ملیں غداری میں دادا جی کی سارری عمر کٹی عیاری میں مکاری میں گھر میں مجرے ہوتے تھے بڑے دادا کی دختر ناجائز ناز اور نخرے دکھاتی تھی چاچا جی کی دلداری میں دادی روتی رہتی تھیں اپنی ہی بہن کا دیکھ کے رقص مونچھوں پہ تاؤ دیا کرتا تھا مسند پر ببیٹھا بیغیرت شخص یہ جھلک ہے گزرے زمانے کی اس سے زیادہ کیا لکھوں ھم ہیں شکار مکافات عمل میں اس سے زیادہ کیا سوچوں پھر بھی اپنے بچوں سے اور اپنے بچوں کے بچوں سے کہتا ہوں وہ زمانہ اچھا تھا تم ہی کہو پھر کیا بولوں کل یہ زمانہ جیسا تھا آج بھی بالکل ویسا ہی ہے انسان سدا سے جیسا تھا آج بھی بالکل ویسا ہی ہے کل بھی ڈاکے پڑتے تھے آج بھی ڈاکے پڑتے ہیں عورتیں بچے لٹتے تھے آج بھی لٹتے رہتے ہیں ٹی وی نہ تھا اخبار نہ تھا ایسی خبریں عام نہ تھیں دھشت طاقت والوں کی اتنی زیادہ سرعام نہ تھیں بیٹے منہ زور وزیروں کے ہم بچے ہیں فقیروں کے ھم آج بھی پوجنے والے ہیں ریت پہ لکھی لکیروں کے کمزور کا جینا کیا جینا کمزور تو مرتے رہتے ہیں چلو اتنا تو فرق پڑا کہ سکتے ہیں لکھ سکتے ہیں پتھر پگھلے عرش بنے ویسے تو عرش ہے حد نظر یہ سسکیاں شاید رب سن لے ھم بس اسلیۓ روتے ہیں کمزوروں کو مجبوروں کو تھوڑی سی توانائ دے دے یا رب ہم بزدل انسانوں کو بس قؤت گویائ دے دے (Google's translation of this Urdu poem is completely absurd)

Bu şiire çeviri ekle ·

Bu şiiri puanla

Henüz puan verilmemiş

Yıldıza dokunarak 1–10 arası puan ver

Yorumlar

Yorum yapmak için giriş yapmalısın.

Giriş yap

Bu şiire henüz yorum yapılmamış. İlk sen ol.

Sana daha iyi bir okuma deneyimi sunabilmek için sitemizde çerez kullanıyoruz. Kişisel verilerin KVKK ve GDPR kapsamında işlenir; hangi çerezlere izin verdiğini dilediğin zaman değiştirebilirsin.