اب آ جاؤ
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
ایسا موسم اگر آیا ہے تو تم بھی آتے
کون کہتا ہے برستے مجھ جل تھل کرتے
میری بیچینی بڑھاتے مجھے بے کل کرتے
ہوش ہوتا تو یہ کہتا مجھے پاگل کرتے
میں کڑی دھوپ میں زندہ ہوں اگر تم چھاتے
زندگی تھوڑی سی آسان تو ہو ہی جاتی
دلکشی پِھر میری مہمان تو ہی جاتی
بوجھ سے ہلکی میری جان تو ہو ہی جاتی
زرا روتے زرا ہنستے زرا ہم بھی گاتے
زندگی تلخ سہی پِھر بھی بتاتے تم ہو
میں نے جو گیت لکھے ہیں انہیں گاتے تم ہو
کیسے صدمات ہیں جو اب بھی اٹھاتے تم ہو
کچھ میری سنتے تو کچھ اپنی سنا بھی جاتے
تم ہو بادل مجھے ملہار سنانے آؤ
راگ دیپک کا جلاتا ہے بجھانے آؤ
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş