اف میں اسکو بھول گیا
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
کل کی باتیں یاد ہیں اب تک آج کی باتیں بھول گیا
وقت کی کالی گھٹاؤں میں کتنے جھولے جھول گیا
وقت تو کل بھی بدلتا تھا آج کی کوئ رت ہی نہیں
باد سموم، بہاروں میں دہشتموسم رستہ بھول گیا
چھوٹے چھوٹے غنچوں پر حملہ آور یہ درندے کون
یہ کیسی جنت ہے یارو کھلنے سے پہلے پھول گیا
یہ بم ہیں یہ ہیں بندوقیں خون میں ہے بارود کی بو
خود کش حملہ آوربوجہل، قبر میں بھی مجہول گیا
اتنا قدآور مت بن گھر کی چھت سے سر ٹکرایا آگر
تو ڈھونڈھے گا پچھتاۓ گا کہاں عرض کہاں طول گیا
ایک آگ کہ جس میں ہم سب کوئلون کی طرح سلگتے ہیں
تیزاب ہے ہم سا سونا بھی بن کر یاں سے محلول گیا
لامحدود خلاؤں میں وقت اور کہیں مصروف ہے شائد
لیکن وہ ہنستا روتا کہتا آۓ گا،"اف میں اسکو بھول گیا-"
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş