آجا
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
سوتا ہوں جسے سن کے وہی ساز بجا دے
چہرے کے اندھیروں کو زرا سی تو جلاء دے
لکھ رکھے بہت سارے ہیں پھر پیار کے نغمے
آ جا کسی دن مجھکو میرے گیت سنا دے
انگاروں کی مانند سلگتی ہے میریسوچ
زلفوں کی ہوا دے کے اسے شعلہ بنا دے
ایک بوجھ سا رہتا ہے شب و روز مسلسل
ہونٹوں کے ترنم سے گراں بوجھ ہٹا دے
آنچل سے لطیفوں کے میرے پونچھ دے آنسو
بے ساختہ ہنس دوں تو اگر آ کے ہنسا دے
وہ بار کہ دل میرا دھڑکنے سے گریزاں
جادو ہے تبسم تیرا تو جادو چلا دے
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş