ایک معصوم سی لڑکی
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
اس طرح ٹوٹ کے اب اور نہیں چاہوں گی
یاد آۓ گی تو خوابوں میں بلا لوں گی
تھپکیاں دے کے امنگوں کو سلا دوں گی
مانگنا ہو گا تو تم ہی سے تمہیں مانگوں گی
گھونٹ دوں گی میں گلا اپنی طلب کا اے دوست
آنکھیں بولیں گی تو آنکھوں کو جھکا لوں گی
گر ہوا چھیڑنے آئ میری زلفوں کو کبھی
میرا آنچل ہے سلامت میں چھپا لوں گی
یہ گلوبند جو شوخی پہ اتر آیا کبھی
اس حسیں بند سے گردن کو چھڑا لوں گی
یوں جلاؤ نہ مجھے مانا کہ عورت میں ہوں
میں جلی گر تو زمانہ کو جلا دوں گی
آزماؤنہ مجھے میں تھی کھری میں ہوں کھری
کھول دوں گی تمہیں آنکھوں کو جھکا دوں گی
رخ پہ گلرنگ اگرآۓ تو سجدہ ہی سہی
چہرہ مکہ سے مدینہ کو گھما لوں گی
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş