فاتح زمانہ
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
کروں کیؤں نہ انکی مدحت میں برنگ عاشقانہ
كہ كلام لم یزل بھی ہے بطرزوالہانہ
یہ خیال شاہ بطحا میرے قلب کا وضو ہے
میری روح کی عبادت ہے یہ ذکر والہانہ
یہ جہاں میں کون آیا كہ گرے صنم زمیں پر
ہوا شَر شکستہ آخر مٹے شرک و شاخسانہ
اٹھی رنگ کی قباحت مٹی نسب کی سیادت
کوئی پہلے اسطرح سے نہ بَدَل سکا زمانہ
اسی قوم کو كہ شہرت جسے جہل كے سبب تھی
ملے وہ تو علم و فن کا بنی بہا خزانہ
ہیں مورخین ششدر نہ ملی کجی کہیں بھی
پڑیں پوری زندگی پر وہ نگاہیں ناقدانہ
مجھے اپنی راہ فطرت پہ نقوش پاء ملے ہیں
نہ تو طرز راغبانہ نہ طریق راہبانہ
وہ صداقت و امانت كے عدو بھی دے گواہی
وہ بشر كے جس میں شَر کچھ نہیں پا سکا زمانہ
ابھی نور وحی رب سے وہ ہوئے نہ تھے منور
وہ چراغ ضوفشاں تھے بکمال عارفانہ
وہ لقب ہے جن کا امی وہی قاطع جہالت
وہی علم و فن میں یکتا وہی نادر و یگانہ
جو بھی اُس زُباں سے نکلا وہ مرصع ضیاء ہے
وہ قلوب جن میں اترا وہی محوش زمانہ
جو شکستہ دِل کو جوڑے وہ حبیب کبریاء ہے
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ
(بمسرع طرح: جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ - جگر مرادآبادی)
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş