گواہی
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
گر میری محبت میٹھی ہے میں اسکو منوا لوں گا
آنکھیں اگر جھک بھی گئیں ہونٹوں سے کہلا دوں گا
گالوں گی گواہی مانو گے میں رنگ گلابی لایا ہوں
یہ چہرہ زرا نزدیک تو ہو رنگ شفق بکھرا دوں گا
زلفوں کی گواہی مانو گے یہ پھول ذرا تم ٹانکنے دو
میری گواہی دیں گی انہیں ان شانوں پر بکھرا دوں گا
کیوں ڈرتے ہو چھپتے ہو یہ عشق تو آگ ازل کی ہے
ہے کوئ اگر دنیا میں ابد اسے شعلوں یں پگھلا دوں گا
آنکھوں سے خوشبو پھوٹے گی جانے کیا کیا لوٹے گی
اب کیسے کہوں اور کیا کھ دوں کیا کیا میں لٹوا لوں گے
گھائل کرنا کام ہے گر گچھ اور زرا زخمی کر دو
جب ہاتھوں میں ہاتھ یہ آۓ گا میں چندن سے سہلا لوں گا
اوروں کی گواہی کیا لینا جب چاند سے باتیں ہونے لگیں
میں چپکے سے آجاؤں گا اور دل کو تیرے بہکا دوں گا
کچھ روٹھے روٹھے لگتے ہو ہونٹ سلے اور کان کھلے
لو لکھ دی تم پہ ایک غزل اب باتوں میں بہلا لوں گا
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş