گناہ
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
انساں نے بیار سیکھا تو جنت سنور گئ
ھر سو ہمارے یار کی صورت بکھر گئ
دیکھا تو کؤی بھی نہ تھا اسکے سوا کہیں
تصویر دل سے نکلی تھی دل میں اتر گئ
لرزیدہ آسمان ہے اس ایک لمس سے
ایک لہر سی اٹھی تھی جو چھو کر گزر گئ
کس کس کو ایک بھول کا دینا پڑا حساب
ہر سمت انگلیاں تھیں جدھر بھی نظر گئ
میں کل بھی آدمی تھا میں اب بھی ہوں آدمی
دنیا نہ جانے کس بہ یہ الز؛م دھر گئ
معصوم تھا رقیب خطا تھی یہ یار کی
برباد کر گئ مجھے آباد کر گئ
اس فرش کو فرشتہ صفت کون کر سکا
لغذش ہماری عرش کو بھی فرش کر گئ
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş