خفا ہو تم
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
چھوٹی سی ایک بھول پہ اتنے خفا ہو تم
اے دوست آدمی ہو یا میرے خدا ہو تم
یوں اجنبی نہ بن کے ملو لاؤ اپنا ہاتھ
ہونٹوں سے اپنے لکھوں میرے آشنا ہو تم
پگھلا دے بتھروں کووہ آنسو میں لایا تھا
کہتے ہیں لوگ سچ کہ بڑے بیوفا ہو تم
اب کیا کہیں کہ تم سے محبت ہے بے پناہ
ہم کیا کریں کہ اب بھی بڑے دلربا ہو تم
ایک آرزو جو حسرت ناکام بن گئ
مانگی ہوئ میری وہی پہلی دعا ہو تم
وہ دکھ جو لے اڑا ہےسکھ کا رنگ روپ
وہ درد بے حساب کہ جسکی دوا ہو تم
جس نے چمن میں پھول کھلاۓ مگر یہ دل
رو رو کے کہ رہا ہے یہ کیسی ہوا ہو تم
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş