خواب
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
دل کے دروزے پہ دستک تو سنائ دی ہے
خوابوں کی ایک جھلک مجھکو دکھائ دی ہے
روشنی در کی دراڑوں سے چلی آتی ہے اندر
دل کو آواز بھی ہلکی سی سنائ دی ہے
تلخیؤں کو جو بھلانے کے لیۓ آتی تھیں
میں جو روٹھا تو منانے کے لیۓ آتی تھیں
سوچتا کہ وہی خواب میں پھر سے دیکھوں
لوریاں جنکی سلانے کے لیۓ آتی تھیں
غم کی بدلی میں چھپا چاند ستارے ڈوبے
ایک طوفان میں وہ سارے کنارے ڈوبے
نیند آتی ہے نہ آۓ گی مجھے جاگنا ہے
کون اب دے گا سہارہ کہ سہارے ڈوبے
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş