کیا سے کیا ہو گیا یہ دن
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
سر شام ہی سو گیا یہ دن
جانے کہاں کھو گیا یہ دن
کانوں میں اس کے کیا کہا
رات جیسا ہو گیا یہ دن
آئے اور چلے بھی گئے
آنکھیں بھگو گیا یہ دن
اتنا اچھا بھی نہ لگنا تھا
خوابوں میں کھو گیا یہ دن
چپکے چپکے یہ کیا کر دیا
کیا سے کیا ہو گیا یہ دن
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş