مچلنا سیکھ لو
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
جب محبت کی ہے تھوڑا سا بہکنا سیکھ لو
میں بنوں گا ایک کھلونا تم مچلنا سیکھ لو
زندگی کیا زندگی ہے جسمیں ایک ٹھوکر نہ ہو
گرنے سے ڈرتے ہو کیوں گر کر سنبھلنا سیکھ لو
جب پھاڑوں سے ہو اترے بن کے دریا تم بہو
اب تو منزل ہے سمندر تم اترنا سیکھ لو
عشق تو ہے دو دلوں کا ایک بن جانے کا نام
حسن ہے وہم نظر تم بس سنورنا سیکھ لو
زندگی میں وقف لازم کا مزہ کچھ اورہے
یہ کتاب زندگی رک رک کے پڑھنا سیکھ لو
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş