محبت بہت ہے
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
مجھے بھول جانے کی عادت بہت ہے
تمہیں کیسے بھولوں محبت بہت ہے
وہ کہنے لگے کیسے ہو آج کل
میں بولا کسی کی عنائت بہت ہے
میرے دشمنوں کی شرارت تو کم ہے
میرے دوستوں کی عداوت بہت ہے
بچی رہ گئ ہے زرا سی کسی میں
یہ تھوڑی سہی پر شرافت بہت ہے
تمہیں دیکھ کر تم پہ کیسی ٹکی ہیں
آنکھوں میں اب بھی شرارت بہت ہے
اترتا ہوا آنکھوں میں موتیا ہے
میرے قطرہ دل میں نکہت بہت ہے
یہ دل ویسے تو کب سے بیمار ہے
مچلتا اب بھی کہ وحشت بہت ہے
کرم کوئ باقی اگر رہ گیا ہے
توکرلیں کہ سہنے کی عادت بہت ہے
نہ جانے یہ کس دل سے کہتاہےاختر
سنا تھا کہ اس میں مرؤت بہت ہے
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş