مدینہ کا گلاب (اختر جواد)
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
صوفی ہوں فرشتے ہوں یا معصوم نبی ہوں
جس کو ہے ضرورت تیری زیادہ میں وہی ہوں
لذت کا شناسا ہوں گنہ گار ہوں پِھر بھی
اے برہمی یار سزاوار ہوں پِھر بھی
دامن میں کئی داغ ہیں ایک داغ ہے ایسا
قطرہ میری آنكھوں سے کوئی ٹپکا ہے ایسا
شائد میرے سینے میں ہے اب بھی کوئی شاداب
مُرجھا نہیں سکتا ہے یہ دنیا میں ہے نایاب
لایا ہوں مدینہ سے تو رکھا ہے چھپا کر
روشن یہ کرے گا میرا تاریک سا وہ گھر
اِس پھول کی شبنم میری آنكھوں سے ہے ٹپکی
یہ جسم تو ہے جسم میری روح ہے مہکی
ہر داغ تو کالا ہے مگر یہ ہے گلابی
مخمور یہ دِل تیری محبت کا شرابی
کہتا ہے نشے میں یہ چڑھا ہے اسے اتنا
یہ داغ ندامت ہے بڑھا دے اسے اتنا
ہر داغ کو اِس داغ کی وسعت میں چھپا دے
اِس داغ کی سرد آگ كے شعلوں کو ہوا دے
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş