مظلوم
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
جب اپنا قصہ سناتے ہوئے کوئی بلک بلک کر رونے لگا
مجھے اپنی کہانی یاد آئی مجھکو بھی کچھ ہونے لگا
وہ بولا تو سب خاموش ہوئے وہ چُپ جو ہوا ایک شور مچا
اپنی آنكھوں کو پونچھا تو کتنی آنكھوں کو بھگونے لگا
ہم سب پہ کچھ نہ کچھ بیتی ہے سب کا ایک فسانہ ہے
کییون ہر کوئی میلا دامن اِس بزم میں آکر دھونے لگا
ظالم تو سدا کا میلا ہے مظلوم بھی میلا میلا ہے
انسان تو سب کچھ پا کر بھی جو پایا تھا سب کھونے لگا
اب عرش ہی بولے تو بولے انسان ہیں سب مظلوم یہاں
باقی سب خاموش رہو کیء راتوں کا جاگا سونے لگا
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş