میٹھا نگر
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
آپ كے عشق میں ہر زیر و زبر میٹھا ہے
دِل تو ہوتا ہی ہے میٹھا یہ جگر میٹھا ہے
میٹھی باتوں کا جو ہوتا ہے اثر میٹھا ہے
آپ كے ہونٹوں سے نکلا جو سحر میٹھا ہے
چھتریاں کھلتی ہیں جب شمس کبھی اتراۓ
روشنی روضہ کی لےلے تو قمر میٹھا ہے
آپ کی راہ اگر ریت ہے اس میں ہے رمق
آپ کی راہ جو پانی تو بھنور میٹھا ہے
آپ کی راہ ہوا ہے تو ہے اس میں بھی نشہ
آپ کی سمت جو اُڑتا ہے وہ پر میٹھا ہے
آپ کی آنكھوں سے نکلی جو ڈگر میٹھی ہے
آپ كے دِل میں جو لے جائے سفر میٹھا ہے
تلخیان لے کے گیا بدلہ میں لایا ہوں مٹھاس
آپ کی گلیاں بھی میٹھی ہیں نگر میٹھا ہے
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş