تھوڑی خوشیاں تھوڑے غم
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
خوش ہیں کہ ہمکو خوشیاں ملی ہیں زرا سی کم
تھوڑی اگر ہیں خوشیاں تو تھوڑے ہیں اپنے غم
یہ ہونٹ مسکراتے ہیں بھولے سے گر کبھی
بھولے سے ہوتی ہیں کبھی آنکھیں بھی اپنی نم
چھوٹا سا دِل ہے چھوٹے سےارمان دِل میں ہیں
چھوٹی سی ایک دنیا ہے رہتے ہیں جس میں ہم
خوش ہیں کہ دوستوں سے بہت دور ہو گئے
اب دشمنوں کا ہم پہ نہیں ہے کوئی ستم
چھینی ہے جب سے ہم سے حَسِین یادرفتگاں
اے وقت یہ سیتم بھی تیرا بن گیا کرم
اب خواب آ كے ہمکو جگاتے نہیں کبھی
اللہ تیرا شکر ہے کم سوچتے ہیں ہم
اب ہم ہیں اور یار ہے تنہایاں بھی ہیں
رکھا ہوا ہے دونوں نےچاہت کاایک بھرم
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş