غزلیات

J Jazib Kamalvi Jazib Kamalvi
0 Altın Yaprak
1-To a dream girl اک مدت سے آ آ کر خوابوں میں تو ملتی ہو۔ آتے جاتے خوشبو سی سانسوں سانسوں کھلتی ہو۔ ضبط ہمیشہ کرتی ہو سر سے اونچے طوفاں کو۔ بند اگرچہ ٹوٹ بہیں رستے سے کب ہٹتی ہو۔ 2-To a high up چلہ کشان عشق بھی بیٹھے ہیں راہ میں۔ تو قید میں اداس ہے وہ چاہ راہ میں۔ نظروں کو پھیر دیکھ کے سہمی ہو شب ڈھلے۔ نظریں ٹکائے بیٹھے ہیں مر کر بھی راہ میں۔ ہاتھوں سے اپنے پاس بلا کر وہ چھپ گئے۔ بازی لگائی سانولے ہاتھوں کی چاہ میں۔ حبس دوام تجھ پہ گراں ہے اگر تو لڑ۔ آ جا حصار واہ سے صحرائے آہ میں۔ میں ہوں تری پناہ میں مجھ کو خبر نہ تھی۔ زیر قدم دبا تھا تلاش پناہ میں۔ تیری تپش سے جاذب و کندن ہوا ہوں میں۔ تجھ سے الجھ کے ہوں تری دشنام گاہ میں۔ 3-Detectives' talk بس چند صد سال یہاں کاربار ہے۔ آدم کے خانداں میں ابھی خلفشار ہے۔ پھر آسمان کو بھی کھنگالیں گے دل بہ دل۔ پرواز ساتھیوں کی ادھر رو بہ کار ہے۔ تھوڑا سا اختیار ہے بے غیرتوں کے پاس۔ فطرت پہ جو بھی ہے اسے جاذب قرار ہے۔ (جاذب کمالوی)

Bu şiire çeviri ekle ·

Bu şiiri puanla

Henüz puan verilmemiş

Yıldıza dokunarak 1–10 arası puan ver

Yorumlar

Yorum yapmak için giriş yapmalısın.

Giriş yap

Bu şiire henüz yorum yapılmamış. İlk sen ol.

Sana daha iyi bir okuma deneyimi sunabilmek için sitemizde çerez kullanıyoruz. Kişisel verilerin KVKK ve GDPR kapsamında işlenir; hangi çerezlere izin verdiğini dilediğin zaman değiştirebilirsin.