یہ دِل تو مدینہ ہے
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
کعبہ تو قرینہ ہے
حاصل تو مدینہ ہے
کعبہ كے بہانوں میں
شامل تو مدینہ ہے
در تیرا سہی لیکن
داخل تو مدینہ ہے
تجھ سے بھی گزرنا ہے
محفل تو مدینہ ہے
توعدل ہے فطرت کا
عادل تو مدینہ ہے
ہم وسل كے طالب ہیں
واصل تو مدینہ ہے.
دیدار كے ترسوں کا
محمل تو مدینہ ہے
تو قبلہ سہی لیکن
قابل تو مدینہ ہے
اِرْسال محبت ہے
مرسل تو مدینہ ہے
تو اک سمندر ہے
ساحل تو مدینہ ہے
تو سنگ سفر میرا
منزل تو مدینہ ہے
ہم قتل پہ رازی ہیں
قاتل تو مدینہ ہے
لےلے یہ جبین میری
پر دِل تو مدینہ ہے
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş