یہ سراغ ابھی تک زندہ ہے
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
بجھتا بجھتا سا دکھتا ہے یہ چراغ ابھی تک زندہ ہے
ہھول تو سب مُرجھا بھی چکے پر باغ ابھی تک زندہ ہے
چند قطرے ابھی بھی رہتے ہیں اور میری زبان متحرک ہے
نہ اٹھاؤ اسے ابھی رہنے دو یہ ایاغ ابھی تک زندہ ہے
ایک شعر تو کہ لینے دو مجھے دِل میں خییال ایک باقی ہے
وہ فروغ تو بس حسرت ہی رہا یہ فراغ ابھی تک زندہ ہے
آتے ہیں اندھیرے جاتے ہیں یہ تماشہ یوں ہی ہوتا ہے
سورج کو جلنے بجھنےدو یہ چراغ ابھی تک زندہ ہے
تم کس کو ڈھونڈھ نے آئے ہو یہ دِل ہے کہاں معلوم نہیں
وہ جیتا ہے یا مر بھی چکا یہ دماغ ابھی تک زندہ ہے
میں اپنے یار کو پا نہ سکا ایک کھوجی كے پیچھے چلتا ہوں
ایک نقش قدم آتا ہے نظر یہ سراغ ابھی تک زندہ ہے
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş