زندگی اور موت
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
زندگی نے تو گل کھلاۓ بہت دیکھیں اب موت کیا کھلاتی ہے
زندگی نے سکھا دیۓ ہیں چلن دیکھیۓ موت کیا سکھاتی ہے
موت سے شاید اور مل جاۓ یاں تو غم بھی ملے تو کم ہی ملے
موت ایک دائمی سکوں کا سفر آ گئ تو کہیں نہ جاتی ہے
موت کو دیکھ کر سہمتی ہے زندگی کے لیۓ تڑپتی ہے
جو گیا آ نہ پایا دوبارہ دنیا قصے عجب سناتی ہے
آزمائش ہے یا نمائش ہے جو بھی ہے یہ انا ہے قدرت کی
اسکے ہر نگ ہی نرالے ہیں روتے روتے بھی مسکراتی ہے
ہے یہ آزاد نظم قدرت کی قافیہ ہے نہیں مگر ہے ردیف
درد لزت ہو یا ہو لزت درد زندگی پھربھی گنگناتی ہے
خوب صورت ہو یا ہوبد صورت پرکشش ہے تجربہ جینے کا
کسلئے تو نے کی شراب کشیداس میں کیا گھول کر ملاتی ہے
زہر بھی ہے یہی، یہی تریاق ہاۓ یہ معرکے محبت کے
مارتی بھی یہی ہے پیاسا ہمیں پیاس لیکن یہی بجھاتی ہے
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş