زندگی
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
بہت کچھ کر لیا ہم نے مگر کچھ کم سا لگتا ہے
ہزاروں مل گیئں خوشیاں مگر ایک غم سا رہتا ہے
کبھی ملبوس فطرت میں محبت اور نفرت میں
نہ چھو پایا تجھے دیدہ ھمیشہ نم سا لگتا ہے
جھلک تیری اگر دیکھی تو آئنہ میں دیکھی ہے
کبھی روشن کبھی مدھم یہ کچھ کچ ھہم سا دکھتا ہے
گریزاں ہم سے رہتا ہے کبھی کچھ سن بھی لیتا ہے
کبھی ہم زم سے لگتے ہیں کبھی وہ زم سا لگتا ہے
کبھی کڑوا کبھی میٹھا مگر پینا ہی پڑتا ہے
بس ایک مشروب ہے جینا جو جام جم سا لگتا ہے
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş