حسین
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
تو مجھے پیاسا اٹھاۓ گا یہ معلوم نہ تھا
اس طرح پاس بلاۓ گا یہ معلوم نہ تھا
سر کہیں جسم کہیں روح نہ کٹ پائ مگر
روح سے روح ملاۓ گا یہ معلوم نہ تھا
کام ادھورا میرے بابا نے جو چھوڑا تھا کبھی
مجھسے وہ پورا کراۓ گا یہ معلوم نہ تھا
کربلا میں چلا آتا تو بگڑتا کیا تیرا
تو مگر پاس نہ آۓ گا یہ معلوم نہ تھا
یہ وہی سر ہے جو سجدہ میں پڑا رہتا تھا
اس طرح اسکو کٹاۓ گا یہ معلوم نہ تھا
تیری آواز میرا رزق ہوا کرتی تھی
تو مجھے بھوکا سلاۓ گا یہ معلوم نہ تھا
تیری آواز کی تزئین کو خوں حاظر تھا
لیکن اتنا بھی بہاۓ گا یہ معلوم نہ تھا
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş