وہ
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
میں رستہ زرا سا بھولا ہوں گمراہ ابھی تک ہو نہ سکا
میں ساتھ تو چلتا آیا ہوں ہمراہ ابھی تک ہو نہ سکا
یہ بھی کوئ محبت ہے انساں ہوں اگر کچھ بھول کروں
پرواہ ہے جسکی صدیؤں سے پرواہ ابھی تک ہو نہ سکا
جو میرے دکھ پہ نکل آیئں ان اشکوں کی خاطر زندہ ہوں
تاثیر ہو جس میں کچھ ایسی وہ آہ ابھی تک ہو نہ سکا
جو مجھکو نہیں پہچانتا ہے میں اسکو بھی پہچانتا ہوں
کوئ چاہ ہے میری مدت سے میں چاہ ابھی تک ہو نہ سکا
چپ چاپ کسی کو دیکھتا ہوں میں جلتا اور پگھلتا ہوں
منزل کی طرف جو مڑ جاۓ وہ نگاہ ابھی تک ہو نہ سکا
میں نے تو نباہی محبت ہے میں نے تو بھگتی عداوت ہے
شیطان کوئ ملتا ہی نہیں تو گناہ ابھی تک ہو نہ سکا
آؤ رستے بدل لیں ہم تم سیدھے چلو میں مڑتا ہوں
جو ہم میں تم میں ہونا تھا وہ نباہ ابھی تک ہو سکا
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş