رسول اللہ کا صدقہ یا اللہ پانی دے
A Akhtar Jawad
0
Altın Yaprak
پہاڑوں کو جوانی دے تو بادل آسمانی دے
محبت میں پگھل جانے کی دونوں کو کہانی دے
زمیں کو سبز جوڑا دے تو دریا کو روانی دے
رسول اللہ کا صدقہ یا اللہ پانی دے
زمیں بیمار دکھتی ہے سمندر پیاسا پیاسا ہے
تیری ایک آس ہے ورنہ نراسا ہی نراسا ہے
حکومت کجھ نہیں کرتی بس ایک جھوٹا دلاسا ہے
رسول اللہ کا صدقہ یا اللہ پانی دے
یہ اے ایچ اصفحانی روڈ ہے شہر کراچی ہے
مہینہ بھر سے پیاسا ہے یتیمی کی نشانی ہے
ہوا ہے لایئنوں میں بس کہاں اب ان میں پانی ہے
رسول اللہ کا صدقہ یا اللہ پانی دے
ان ایوانوں میں بیٹھے زر پرستوں پر گرا بجلی
یہ ٹینکر مافیا کے چیرہ دستوں پر گرا بجلی
کوئ چنگیز خاں ہی بھیج مستوں پر گرا بجلی
رسول اللہ کا صدقہ یا اللہ پانی دے
Bu şiiri puanla
Henüz puan verilmemiş